حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزقت علمیہ کے دفترِ منصوبہ بندی و اسٹریٹجک نگرانی کے شعبۂ منصوبہ و بجٹ کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین میثم جراح زادہ نے دوسرے پانچ سالہ منصوبے کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے کی خصوصیات اور مراحلِ تدوین پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ حوزہ علمیہ کا دوسرا پانچ سالہ منصوبہ علمی اصولوں، بنیادی نظریات اور ایک جامع علمی ماڈل کی بنیاد پر، انتظامی امور کے ماہرین کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ اس دوران پہلے پانچ سالہ منصوبے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد گھنٹے ماہرین کے ساتھ اجلاس منعقد کیے گئے، جس کے بعد یہ منصوبہ آج باضابطہ طور پر پیش کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے میں 4 مختلف زاویوں کے تحت 17 اسٹریٹجک موضوعات، 61 درمیانی مدت کے اہداف اور 522 کلیدی اشاریے شامل ہیں۔ یہ چار زاویے نتائج، مخاطبین و متعلقہ افراد، بنیادی عمل اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے سے متعلق ہیں۔
حجۃ الاسلام جراح زادہ نے دوسرے پانچ سالہ منصوبے کی اہم خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس میں پہلے منصوبے کا جامع جائزہ اور اس کی خامیوں کا ازالہ، صوبائی انتظامیہ کے تعاون سے ماحول کا درست تجزیہ، ۲۰ سے زائد بالادست دستاویزات کا مطالعہ، موضوعات، اہداف اور اشاریوں کے حجم میں کمی کے ذریعے منصوبے کو زیادہ متحرک اور مؤثر بنانا اور مرکزی و صوبائی تمام یونٹس اور مختلف شعبوں کے ماہرین کی شرکت شامل ہے۔
انہوں نے منصوبے کی تدوین میں تعاون کرنے والے رہبری کونسل، علمی کمیٹی، سربراہان، مرکزی و صوبائی ذمہ داران اور ماہرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بنانا اہم ضرور ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم اس پر مؤثر عمل درآمد ہے۔ امید ہے کہ تمام مرکزی و صوبائی یونٹس کی بھرپور توجہ سے آئندہ پانچ برسوں میں اس منصوبے کے مکمل نفاذ اور حوزہ علمیہ میں بنیادی ترقی و تحول کا مشاہدہ کیا جائے گا۔









آپ کا تبصرہ